طلب گاری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - طلب گار کا اسم کیفیت، طلب کرنا، آرزو کرنا، خواہش کرنا۔  حسن کو حسن سے اک فکر طلب گاری تھی ایک جان اور دو قالب ہوں یہ بیع آری (کذا) تھی      ( ١٩٧٨ء، دامن یوسف، ١٣٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طلب' کے ساتھ فارسی لاحقۂ فاعلی 'گار' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "دیوان باقر آگاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث